ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی: قطب مینار کے اندر دیوتاؤں کی پوجا کیلئے دائر عرضی خارج

دہلی: قطب مینار کے اندر دیوتاؤں کی پوجا کیلئے دائر عرضی خارج

Sat, 11 Dec 2021 11:29:21    S.O. News Service

نئی دہلی ، 11؍دسمبر  (ایس او نیوز؍ایجنسی) ایودھیا زمینی تنازع کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت نے قطب مینار کے احاطہ میں ہندو اور جین دیوتاؤں کی پوجا کے حق کیلئے دائرایک دیوانی مقدمہ کو خارج کر دیا ہے-عدالت نے کہا کہ حال اور مستقبل میں امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر پچھلی غلطیوں کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا ہے-جین دیوتا تیرتھنکر بھگوان رشبھ دیو اور ہندو دیوتا بھگوان وشنو کی جانب سے دائر مقدمے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ محمد غوری کی فوج میں جنرل رہے قطب الدین ایبک نے 27 مندروں کو جزوی طور پرمسمار کرکے ان کی اشیاکا دوبارہ استعمال کرکے احاطہ کے اندر قوۃالاسلام مسجد بنائی تھی-اس عرضی کو خارج کرتے ہوئے سیول جج نہا شرما نے کہاکہ ثقافتی اعتبار سے ہندوستان کی تاریخ ثروت مندہے- اس پر کئی شاہی خاندانوں کی حکومت رہی ہے- شنوائی کے دوران مدعی کے وکیل نے زور دے کر اس کو قومی شرم کا باعث بتایا- حالانکہ کسی نے بھی اس بات سے انکار نہیں کیا کہ ماضی میں غلطیاں کی گئی تھیں، لیکن اس طرح کی غلطیاں ہمارے حال اور مستقبل کے امن و امان کو خراب کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتی ہیں - جج نے کہاکہ ہمارے ملک کی ایک ثروت مند تاریخ رہی ہے اور اس نے مشکل وقت دیکھا ہے- پھر بھی تاریخ کو مجموعی طور پر قبول کرنا ہوگا- کیا ہماری تاریخ سے اچھے حصہ کو برقرار رکھا جا سکتا ہے اور برے حصہ کو مٹایا جا سکتا ہے؟ انہوں نے سال 2019 میں سپریم کورٹ کے ایودھیا فیصلے کا ذکر کیا اور اپنے فیصلے میں اس کے ایک حصہ پر روشنی ڈالی، جس میں کہا گیا تھاکہ ہم اپنی تاریخ سے واقف ہیں اور ملک کو اس کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے، آزادی ایک اہم لمحہ تھا- ماضی کے زخموں کو بھرنے کیلئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے لوگوں کے ذریعے تاریخی غلطیوں کو حل نہیں کیا جا سکتا ہے-عرضی میں کہا گیا ہے کہ دیوتا تیرتھنکر بھگوان رشبھ دیو اور بھگوان وشنو، بھگوان گنیش، بھگوان شیو، دیوی گوری، بھگوان سوریہ، بھگوان ہنومان سمیت 27مندروں کے دیوتاوں کوعلاقے میں مبینہ مندر کے احاطہ میں دوبارہ قائم کرنے اور پوجا کرنے کا حق ہے-وکیل وشنو ایس جین کے اس مقدمے میں ٹرسٹ ایکٹ1882کے مطابق،مرکزی حکومت کو ایک ٹرسٹ بنانے اور قطب علاقے میں واقع مندرکے احاطہ کا انتظام و انصرام اور اس کو سونپنے کیلئے لازمی ہدایات جاری کرنے کی گزارش کی گئی تھی-حالانکہ، عدالت نے کہا کہ مدعی کی اس دلیل میں کوئی دم نہیں ہے کہ عقیدت مندوں کو آئین ہند کے آرٹیکل25 / اور 26 کے تحت فراہم اپنے مذہب پر عمل کرنے اور یہ یقینی بنانے کا حق ہے کہ دیوتاؤں کو ان کی اصل جگہ پر احترام کے ساتھ نصب کیا جائے - جج نے کہا کہ جب کسی ڈھانچے کو قومی یادگارقرار دیا گیا ہے اور یہ سرکار کی ملکیت میں ہے تومدعی یہ مانگ نہیں کر سکتے ہیں کہ ایسی جگہ عبادت گاہ بناکر مذہبی رسومات ادا کی جائیں -
اس عرضی میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ دہلی پر سال 1192 تک مشہور ہندو راجاؤں کی حکومت تھی، جب محمد غوری نے 1192 عیسوی میں جنگ میں راجہ پرتھوی راج چوہان پر حملہ کیا اور انہیں ہرایا تھا-انہوں نے کہا کہ اس کے بعد محمد غوری کے ایک جنرل قطب الدین ایبک نے شری وشنو ہری مندر اور 27 جین مندروں کو مسمار کرکے احاطہ کے اندر ایک اندرونی حصہ بنوایاتھا- عربی زبان میں مندر احاطہ کا نام بدل کرقوۃ الاسلام مسجد کر دیا گیاتھا-


Share: